
افسانہ
سائل
از:۔ ایم مبین
امام نےسلام پھیرا اور اسی وقت عقب سےابھرنےوالی آواز کو سن کر تمام نمازی پیچھےمڑ
کر دیکھنےلگے۔ ایک شخص کھڑا تھا ۔
” برادران ! میرا تعلق ریاست بہار سےہے۔ میری لڑکی کےدل کا آپریشن ہونےوالا ہےاس
سلسلہ میں ‘ میں یہاں آیا ہوں ۔ آپریشن کےلئےلاکھوں روپیہ درکار ہے۔ آپ کی اعانت کا
قطرہ قطرہ مل کر میرےلئےسمندر بن جائےگا ۔ میری بیٹی کی جان بچ جائےگی ۔ میری بیٹی
کی جان بچا کر ثواب دارین حاصل کریں ۔ “اس شخص کی آواز سن کر کچھ نمازیوں کےچہروں
پر ناگواری کےتاثرات ابھرےکچھ غیض و غضب بھری نظروں سےاسےدیکھنےلگے۔ کچھ
بڑبڑانےلگے۔
” لوگوں نےدھندا بنا لیا ہے۔ خدا کےگھر میں بیٹھ کر بھی جھوٹ بولتےہیں ۔ “
” خدا کےگھر ‘ نماز کا بھی کوئی احترام نہیں ۔ نماز ختم بھی نہیں ہوئی اور حضرت
شروع ہوگئے۔ “
” نماز کےدوران اس قسم کےاعلانات پر پابندی لگادینی چاہیئے۔ “ باتوں کا سلسلہ
درمیان میں ہی منقطع ہوگیا ۔ کیونکہ امام نےدعا کےلئےہاتھ اٹھالئےتھے۔
پتہ نہیں کیوں اس شخص کی بات سن کر ان کےدل میں ایک ہوک سی اٹھی ۔ اس شخص کےبیٹھ
جانےکےبعد بھی وہ بار بار اسےمڑ کر دیکھتےرہے۔ انہیں اس شخص کا چہرہ بڑا مسکین
محسوس ہوا ۔ انہیں ایسا لگا جیسے یہ شخص سچ مچ مدد کا طالب ہےاور یہ جھوٹ نہیں بول
رہا ہے۔ اسےایسا سچ مچ اپنی بیٹی کی جان بچانےکےلئےمدد درکار ہے۔ دعا ختم ہوگئی اور
وہ اسی بارےمیں سوچتےرہے۔ وہ مسجد سےباہر نکلےتو انہیں وہ شخص مسجد کےدروازےکےپاس
ایک رومال پھیلائےبیٹھا دکھائی دیا ۔ رومال میں کچھ سکےاور ایک دو ‘ ایک دو روپیہ
کی نوٹیں پھیلی تھیں ۔ ایک لمحہ کےلئےوہ رک گئےجیب میں ہاتھ ڈالا اور پیسوں کا
اندازہ لگانےلگےاور آگےبڑھ گئے۔
گھر آئےتو بہو اور بیٹا ایک آدمی کےساتھ باتیں کررہےتھے۔
” اگر آپ سیلنگ لگاتےہیں ؟“ وہ آدمی کہہ رہا تھا ۔ ” تو میں آپ کو بالکل نئےطرز کی
سیلنگ لگا کر دوں گا ۔ اس طرح کی سیلنگ میں نےایک فلم اسٹار کےبیڈروم میں لگائی ہے۔
ایک بڑی کمپنی کےآفس میں بھی اسی طرح کی سیلنگ ہے۔ اگر آپ صرف سیلنگ لگائیں گےتو
پورےفلیٹ میں سیلنگ لگانےکا خرچ پچیس ہزار روپےکےقریب آئےگا ۔ اگر آپ سیلنگ صرف
بیڈروم میں لگانا چاہتےہیں تو دس ہزار روپےکےقریب خرچ آئےگا ۔ “
”پورےفلیٹ میں سیلنگ لگانےکی کوئی ضرورت نہیں ۔ صرف بیڈ روم میں ہی سیلنگ لگائیں
گے۔ “ بہو بیٹےکی طرف سوالیہ نظروں سےدیکھ رہی تھی ۔ ابھی گذشتہ سال ہی تو بیس ہزار
روپےخرچ کرکےسیلنگ لگوائی تھی ۔ ” اتنی جلدی سیلنگ بدلنےکی کوئی صرورت نہیں ہےہاں
بیڈروم میںسیلنگ بدلنےکی سخت ضرورت ہےکیونکہ بیڈروم میں نیا پن تو ہونا چاہیئے۔ “
” ٹھیک ہے! “ بیٹا اس آدمی سےکہنےلگا کہ تم کل آفس آکر پانچ ہزار روپےاڈوانس لےلینا
اور پرسوں سےکام شروع کردینا ۔ کام دو تین دنوں میں ختم ہوجانا چاہیئی۔ “
” صاحب ! دو تین دنوں میں کام ختم ہونا تو مشکل ہےکم سےکم آٹھ دن تو لگیں گےہی ۔ “
وہ آدمی کہنےلگا ۔
” ٹھیک ہے! لیکن کم سےکم وقت میں کام ختم کرنا اگلےماہ میم صاحب کی برتھ ڈےہے۔ اس
برتھ ڈےکی پارٹی میں میں اپنےاور میم صاحب کےدوستوں کو سرپرائز گفٹ دیناچاہتا ہوں ۔
“ بیٹا کہہ رہا تھا ۔
” آپ فکر نہ کریں کام وقت پر ہوجائےگا ۔ “ وہ آدمی اٹھ کر جانےلگا ۔
” ارےہاں ! مجھےاپنی اس برتھ ڈےپر کوئی قیمتی گفٹ چاہیئےجو کم سےکم بیس ہزار روپےکا
ہو اور پھر پارٹی پر بھی تو دس بارہ ہزار روپےخرچ تو ہوں گےہی ۔ پھر یہ سیلنگ کا
کام ۔ اتنےپیسےہیں بھی یا نہیں ؟ “
” تم فکر کیوں کرتی ہو ۔ سارا انتظام ہوجائےگا ۔ “ بیٹا بولا ۔ اچانک اس کی نظر ان
پر پڑی ۔ ” ارےابا جان ! آئیے۔ ہم لوگ آپ ہی کا انتظار کررہےتھے۔
” چلئےجلدی سےہاتھ منہ دھولیجئے۔ نرگس ذرا کھانا لگانا ۔ “
” ابھی لگاتی ہوں ۔ “ کہتی ہوئی بہو اٹھ گئی ۔ کھانا لگا گیا اور وہ ساتھ میں کھانا
کھانےلگے۔ کھانا کھاتےوقت بھی ان کا ذہن کہیں اور ہی الجھا ہوا تھا ۔ بیٹا فلیٹ کی
چھت بدلنےپر دس بیس ہزارروپےخرچ کرنےپر تیار ہے۔ بیوی کی سالگرہ پر دس بیس ہزار
روپےکا تحفہ دینےکےلئےتیار ہےسالگرہ کی پارٹی پر دس بارہ ہزار روپےخرچ کرےگا۔ خدا
نےاسےوہ آسودگی عطا کی ہے۔جس کےلئےمیں زندگی بھر ترستا رہا ۔
مریم ! لگتا ہےہمارےبرےدن دور ہوگئےہیں تمہاری بھی ساری دکھ تکلیفیں دور ہونےوالی
ہیں ۔ تمہیں بہت جلد اس موذی مرض سےنجات ملنےوالی ہےرات کو سونےکےلئےلیٹےبھی تو ذہن
میں بیٹا ہی چھایا ہوا تھا ۔
” بیٹےعامر !ایسا لگتا ہےتم میرےسارےخوابوں کو پورا کردوگے۔ تمہارےبارےمیں میں نےجو
جو خواب دیکھےتھےوہ سارےخواب پورےکردوگے۔ خدا تمہیں زندگی کےہر امتحان میں کامیاب
کرے۔ اور ساری دنیا کی مسرّتیں ‘ خوشیاں آکر تمہاری جھولی میں جمع ہوجائیں ۔ ان کی
آنکھوں کےسامنےپانچ چھ سال کےعامر کی تصویر گھوم گئی ۔ جب وہ کھیتوں میں کام
کررہےہوتےتو عامر اپنےننھےننھےہاتھوں میں تختی تھامےدوڑتا ہوا آتا تھا اور دور سےان
سےچیخ کر کہتا تھا کہ ابا ! آج ماسٹر جی نےہمیں الف سےلےکر ت تک الفاظ سکھائےہیں ۔
مجھےاب پ ‘ ت سب لکھنا آتا ہےدیکھئےمیں نےلکھا ہے۔ وہ آکر ان سےلپٹ جاتا تھا ۔ اور
اپنی تختی ان کی طرف بڑھا دیتا تھا ۔ تختی پر لکھےننھےننھےحروف پر نظر پڑتےہی ان کا
دل خوشی سےجھوم اٹھتا تھا ۔
” بیٹےمیرا دل کہتا ہےتو میرا نام ساری دنیا میں روشن کرےگا ۔ تُو ایک دن پڑھ لکھ
کر بہت بڑا آدمی بنےگا۔ “ اور سچ مچ عامر نےنچلی جماعتوں سےہی ان کا نام روشن کرنا
شروع کردیا تھا ۔
گاو
¿
ں کا ہر فرد جانتا تھا کہ عامر پڑھنےلکھنےمیں بہت ہوشیار ہے۔ ہمیشہ کلاس میں اول آتا ہے۔ دسویں کےامتحان میں تو وہ پورےبورڈ میں تیسرا آیا تھا اور اس کی اس کامیابی سےنہ صرف ان کا بلکہ سارےگاو¿
ں اور گاو¿
ں کی اس چھوٹی سی اسکول کا نام بھی روشن ہوگیا تھا اور اس کےبعد عامر کوا علیٰ تعلیم کےلئےشہر جانا تھا ۔ یہ تو بہت پہلےہی طےہوچکا تھا کہ وہ عامر کو اعلیٰ تعلیم کےلئےشہر بھیجیں گے۔¿
ں سےباہر جاتےتو یہ کام مریم کو کرنا پڑتا تھا۔ مریم کی پرانی بیماری کا زور بڑھتا ہی جارہا تھا ۔¿
ں میں آنےوالےڈاکٹر مریم کی ان بیماریوں کا صحیح طور پر علاج نہیں کرپاتےتھے۔ شہر کےایک اچھےڈاکٹر کےعلاج سےتھوڑا ا©فاقہ ہوجاتا تھا ۔ مریم کی دواو
¿
ں کا خرچ عامر کی پڑھائی کےخرچ کےبرابر تھا ۔ کھیت میں نئی فصل آتےہی وہ سب سےپہلےدونوں کےخرچ کےپیسےالگ اٹھا کر رکھ دیتےتھے۔ لیکن نہ تو عامر کی پڑھائی کےخرچ کی کوئی حد تھی اور نہ مریم کی بیماری کےخرچ کی ۔ دونوں بار بار اپنی حدود کو پار کرجاتےتھےاور ان کا سارا بجٹ گڑبڑا جاتا تھا ۔ ایسےمیں مریم ایثار کی مورتی بن جاتی تھی۔ وہ لاکھ تکلیفوں کو برداشت کرلیتی تھی اور ان سےکہتی تھی کہ میری طبیعت ٹھیک ہے۔ ڈاکٹر کےپاس جانےکی ضرورت نہیں ہے۔ پیسےعامر کو بھیج دو ۔ وہ بیوی کےایثار کو سمجھتےتھےلیکن اس معاملےمیں بیوی سےبحث نہیں کرپاتےتھے۔ کیونکہ بیٹےکی پڑھائی سامنےسوالیہ نشان بن کر کھڑی ہوجاتی تھی اور عامر ہر بار اچھےنمبروں سےپاس ہوتا تھا ۔ اور اس کی کامیابی سےوہ خوشی سےجھوم اٹھتےتھے۔ کہ عامر کےلئےوہ جو عبادت کررہےہیں ۔ قدرت انہیں ان کی اس عبادت کا پھل دےرہا ہے۔ آخر وہ دن آپہونچا جب عامر نےاپنی تعلیم اچھےدرجےسےپوری کرلی ۔¿
ں ‘ کھیت اور گھر چھوڑ کر اجنبی شہر کہاں جائیں ؟ وہاں نہ کسی سےجان نہ پہچان ۔ پھر وہاں کےہزاروں مسائل ۔عامر کےبہت زور دینےپر وہ کچھ دن اس کےپاس رہنےآئے۔ لیکن آنےکےبعد دونوں کا یہی خیال تھا کہ وہ اس کےپاس شہر میں نہیں رہ سکتے۔ انہیں وہاں کا ماحول راس نہیں آیا تھا نہ ان میں وہاں کےمسائل کا سامنا کرنےکی تاب تھی ۔ اس درمیان میں عامر نےانہیں لکھا اس نےایک لڑکی پسند کرلی ہےاور لڑکی کےگھر والےاس کی شادی عامر سےکرنےکےلئےتیار ہیں ۔ آپ لوگ آکر اس معاملےکو طےکرجائیں ۔ اس بات کو پڑھ کر وہ خوشی سےجھوم اٹھی
تھے۔ عامر نےان کےسرکا ایک بوجھ ہلکا کردیا تھا ۔ انہیں عامر کےلئےلڑکی ڈھونڈنی
نہیں پڑی تھی ۔ اس نےخود ڈھونڈ لی تھی ۔ شادی بیاہ کےبارےمیں وہ اتنےدقیانوسی نہیں
تھےکہ عامر کی اس بات کا برا مان جائیں ۔ ان کا خیال تھا کہ عامر کو اس لڑکی کےساتھ
زندگی گذارنی ہے۔ اس نےخود لڑکی پسند کی ہےتو لڑکی اچھی ہی ہوگی ۔
وہ ایک دن جاکر نرگس کو دیکھ آئےاور شادی کی تاریخ بھی پکی کر آئی۔ اس کےبعد انہوں
نےبڑی دھوم سےعامر کی شادی کی ۔ گاو
¿
ں کےجو لوگ بھی ان کےساتھ عامرکی شادی کےلئےشہر گئےتھےان کا بھی کہنا تھا کہ آج تک گاو¿
ں میں اتنی دھوم دھام سےکسی کی شادی نہیں ہوئی ۔¿
ں سےدرد کو دبانےکی کوشش کےساتھ ساتھ پتھری کو ختم کرنےکی کوشش بھی کرتا رہا ہوں ۔ لیکن نہ تو پتھری ختم ہوسکی ہےاور نہ درد اور اس وقت جو صورتِ حال ہےاس کےپیشِ نظر آپریشن بےحد ضروری ہے۔ ورنہ کسی دن درد کا یہ دورہ جان لیوا ثابت ہوگا ۔
پتہ:۔
ایم مبین
٣٠٣،کلاسک پلازہ،تین بتتی
بھیونڈی ٢٠٣ ١٢٤
ضلع تھانہ ( مہاراشٹر)
M.Mubin
Classic Plaza, Teen Batti
BHIWANDI_ 421302
Dist.Thane Maharashtra India)
Mob:- 09372436628) )
Urdu Hindi Writer M.Mubin 's Urdu Short tStory about common man's suffiring